‫‫کیٹیگری‬ :
14 October 2018 - 19:37
News ID: 437389
فونت
آیت الله جوادی آملی نے بیان کیا ؛
حضرت ‌آیت الله جوادی آملی نے اس بیان کے ساتھ کہ مودت و رحمت خانوادہ کی حفاظت کی دو رکن ہے بیان کیا : وہ چیز جو پرانی جاہلیت اور مڈرن عصر میں پایا جاتا ہے یہ ہے کہ خواتین کا حق خود خواتین اور مرد کے ذریعہ دیا نہیں جانا ہے ۔
آیت الله جوادی آملی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد و مفسر قرآن کریم حضرت آیت الله عبدالله جوادی آملی نے ایران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم میں منعقدہ اپنے درس میں اس بیان کے ساتھ کہ سورہ مبارکہ طلاق معارف توحیدی سے متعلق ہے بیان کیا : سورہ کے ابتدا امیں خانوادہ کے احکامات بیان کئے گئے ہیں اور قرآن کریم میں خواتین کے حقوق کے سلسلہ میں جس طرح تاکید ہوئی ہے دوسرے مسائل میں کم دیکھنے کو ملتا ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : وہ چیز جو پرانی جاہلیت اور مڈرن عصر میں پایا جاتا ہے یہ ہے کہ خواتین کا حق خود خواتین اور مرد کے ذریعہ دیا نہیں جانا ہے خانوادہ کی بنیاد عفاف و حجاب پر ہے اور قرآن کریم کا اصرار خواتین کے حق کے سلسلہ میں اس لئے ہے کہ خانوادے کی بنیاد محفوظ رہے ، سکنیت کی ذمہ داری خواتین پر ہے اگر چہ مسکن کی ذمہ داری مرد پر ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد نے بیان کیا : خواتین جب خانوادہ کی آرامش و سکون کی حفاظت کرتی ہے کہ خواتین کے حق کی حفاظت خود خواتین نے کی ہے دوسروں کو بھی خواتین کے حق کا احترام کرنا چاہیئے ۔ خواتین کے حقوق کی اسلام میں بہت تاکید کی گئی ہے تا کہ معاشرا تکامل کی طرف قدم بڑھائے ۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہو۔کہا : دو رکن جو خانوادہ کی حفاظت کرتا ہے مودت و محبت و رحمت اور مہربانی ہے ، مرد جس کے اندر عملی قدرت و طاقت زیادہ پائی جاتی ہے اس کو اپنے خانوادہ کے نفقہ و مسکن کا انتظام کرے اور خواتین جو کے عاطفی و محبت کی قدرت کی حامل ہے وہ سکنیت دے ، خواتین کی عطوفت مرد کے عطوفت سے کئی گنا زیادہ و قوی ہے اور یہ کہ خواتین کی  آنکھوں میں جلد اشک نکل جاتا ہے یہ اس کی دولت ہے ، خواتین کی دولت عطوفت ہے کہ جو مرد میں نہیں پاہا جاتا ہے ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے اس بیان کے ساتھ‌ کہ ممکن ہے خواتین فورا گریہ کرنے لگیں لیکن ان کا گریہ کرنا مہربانی و عطوطت کی نشانی ہے بیان کیا : سماج کو عاطفہ و ممتا ادارہ کرتا ہے ۔ اس زمانہ میں طلاق میں اضافہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سماج میں مہربانی و عطوفت میں کمی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے طلاق کا مسئلہ زیادہ ہوتا جا رہا ہے ۔

انہون نے معاشرے میں‌پائی جانے والی تمام مشکلات کا حل قرآن کریم و روایات سے متمسک ہونے میں جانا ہے اور بیان کیا : اس عظیم مشکلات سے نجات کا واحد راستہ قرآن کریم اور روایات سے تمسک اختیار کرنا ہے ، مٹھی باہر کے دشمنوں سے جنگ و مقابلہ کے لئے ہے لیکن جب اپنے ملک میں آتے ہیں تو اس مٹھی کو کھول کر مصافحہ کی جائے اور سماج میں مہر و محبت کو فروغ دی جائے تا کہ طلاق کی تعداد میں کمی اور شادی کی تعداد میں اضافہ ہو ۔ /۹۸۹/ف۹۷۰/

 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬